لونگ بائیک ٹورنگ

موٹر بائیک کا چناؤ

سب سے بہتر اپروچ یہ ہوتی ہے کہ آپ ایک ایسی بائیک کا چناؤ کریں جو نہ تو بہت مہنگی ہو اور نہ بہت ہلکی / سستی ہو۔ لونگ بائیک ٹورنگ کے لیئے اس وقت پاکستانی مارکیٹ میں سوزوکی 150 اور یاماھا 125 وائی بی آر جی میرے نزدیک سب سے بہترین چوائسز ہیں۔ یہ بائیکس آپ کو دو لاکھ سے نیچے کے بجٹ میں مل جاتی ہیں۔ لونگ بائیک ٹورنگ کے لیئے میرے نزدیک ہنڈا 125 سب سے بدترین بائیک ہے اور اسکی وجہ وائبریشن والا انجن، غیر معیاری سسپنشن اور شور والی آواز ہے۔ یاد رہے لونگ بائیک ٹورنگ میں یہ تینوں چیزیں آپ کو جسمانی و ذہنی طور پر بری طرح تھکاتی ہیں۔ لونگ ٹورنگ میں بائیکس کے چناؤ میں سب سے پہلی ترجیح رائیڈ کا "کمفرٹ" ہونا چاہیئے۔

ڈبلنگ سے پرہیز

لونگ بائیک ٹورنگ میں ڈبلنگ کرنا پچھلی سواری اور بائیک دونوں کا ستیاناس کردیتا ہے۔ دو بندے ہیں تو دو بائیکس کر لیں چاہے 70 سی سی بائیک ہی کیوں نہ ہو مگر ڈبلنگ والی ضلالت مول نہ لیں۔

کم سے کم ممکنہ وزن

ڈبلنگ کی ہی مزید وضاحت میں عرض ہے کہ بائیک پر جتنا کم وزن لادیں گے اتنا سکون میں رہیں گے۔ یہ بھی لے جاؤں وہ بھی لے جاؤں ایسا کام مت کریں۔

رفتار

لونگ بائیک ٹورز میں ٹاپ سپیڈ، تیز رفتاری کلی طور پر غیر متعلقہ فیکٹر ہے۔ جو لوگ یہ خواب دیکھتے ہیں کہ لونگ بائیک ٹور کر رہے ہیں اور بائیک ہوا میں اڑ رہی ہے وہ احمقانہ خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اگر سڑک سیدھی ہے تو بائیک کی حالت کے مطابق ایک uniform رفتار مینٹین کرکے بائیک رائیڈ کریں اور اگر پہاڑی سڑک ہے تو رفتار پر کنٹرول ایسا رکھیں کہ کلچ اور بریک کا کم سے کم استعمال ہو۔ خواہ مخواہ کی رفتار سے حادثے کی چانس بہت بڑھ جاتے ہیں، فیول ایوریج خراب ہوتی ہے، بار بار بریکس کا استعمال کرنا پڑتا ہے جس سے بریکس جلدی فارغ ہوتی ہیں اور تھکاوٹ کا عنصر بھی بڑھ جاتا ہے۔ تو شوخی رفتار سے پرہیز کریں۔

رہائش اور طعام

کوشش کر کے دوران سفر کم سے کم کھانا کھائيں، پانی بھرپور استعمال کریں کیونکہ بائیک رائيڈنگ میں ڈی ہائیڈریشن ہوتی ہے اور گرم موسم میں تو بہت ہوتی ہے۔ میں ٹورنگ کے دوران کھانا بالکل نہیں کھاتا، او آر ایس ملا پانی اور ساتھ کھجور یا خشک خوبانی سے دن گزارتا ہوں، کہیں کسی ڈھابے سے چائے پی لی اور پھر رات کو جہاں سٹے کرنا وہاں سونے سے قبل ڈٹ کا کھانا کھاتا ہوں۔

رہائش کا اصول ہے کہ مغرب سے پہلے پہلے سٹے پوائنٹ ارینج کر لینا چاہیئے۔ جتنا اندھیرا زيادہ ہو گا آپ کی مشکل اتنی بڑھے گی۔ چوائسز محدود ہو جاتی ہیں اور ہوٹل والوں سے بارگین کرنے کی پاور بھی کم ہو جاتی ہے۔ آرام ڈٹ کر کریں، بھرپور نیند لیں اور اگلی صبح سویرے جلدی سفر کا آغاز کریں۔ میں جب گھر سے بائیک ٹورنگ کے لیئے نکلتا ہوں تو تہجد کے وقت نکلتا ہوں۔ رات کے تین بجے سے صبح آٹھ بجے تک آپ جی ٹی روڈ کو سکون سے ناپ چکے ہوتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں میرا سفر فجر سے کوئی گھنٹہ بعد شروع ہوتا ہے اور مغرب کے وقت اپنا سٹے پوائنٹ فائنل کرکے بائیک کا انجن بند کر کے کھانا، آرام، اور نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہوں۔

پلان

ہمیشہ اپنے سفر کو پلان کریں۔ ٹور کا ایک خاکہ کاغذ پر بنا کر رکھیں۔ اس سے آپ کے ذہن میں چیزیں کلئیر ہوتی ہیں۔ پلان راستے میں تبدیل ہو سکتا ہے مگر میری طرح منہ اٹھا کر گھر سے نہیں نکل جانا چاہیئے حالانکہ unplanned ٹورز ہمیشہ زيادہ مزا دیتے ہیں اس کے باوجود میرے پاس پورا پلان لکھا ہوتا ہے۔ ہاں زیادہ لطف لینا ہو تو دوران سفر آؤٹ آف باکس سوچیں۔ جو سب کر رہے ہوں اس سے ہٹ کر کچھ پنگا لینے کی کوشش کریں۔

مقامی اجنبیوں کو لفٹ

میں مقامی اجنیبوں کو بلا تامل اور ترجیحا لفٹ دے دیتا ہوں۔ ایک تو میں اکیلا ہوتا ہوں تو میرا کچھ دیر کے لیئے کوئی ہمسفر بن جاتا ہے، دوسرا مقامی سے بات چیت سے آپ کو بہت کچھ نیا جاننے کو ملتا ہے، نئی چھپی ہوئی جگہیں، رہنے کے سپاٹ، مقامی ذائقے اور مقامی رسم و رواج، مسائل اور رویوں سے آگاہی ہوتی ہے۔ لیکن بہرحال اصول یہ ہے کہ اجنبی کو لفٹ نہ دی جائے۔ کوہستان داسو پر ایک جگہ میں نے ایک مقامی کو لفٹ دی تو پولیس چوکی پر مجھے خاصی ڈانٹ پڑی کہ تم اس شخص کو جانتے نہیں تو کیوں اس کو بٹھایا۔ جی بی اور کشمیر میں بہرحال صورت حال ہمیشہ بہت دوستانہ رہی۔

بائیک تیاری

سفر شروع کرنے سے پہلے بائیک اچھی طرح ٹیون ہونی چاہیئے۔ ٹائرز، کلچ پلیٹس، بریکس پر کبھی بھی کمپرومائز نہ کریں۔ ٹائر کی ٹیوب، پنکچر کٹ، ایکسٹرا بریک شو، انجن آئل، چھوٹے موٹے ٹولز ہمراہ رکھیں۔

بائیک ہمیشہ یہ سوچ کر رائيڈ کریں آپ نے خیر خیریت سے گھر واپس جانا ہے۔ گھر والوں اور انباکس والے دوستوں کا ہمیشہ خیال رکھیں۔

Written by Amir Mughal